حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) قَالَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ: إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ: الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَابِ عَنِ الْأَشَجِّ الْعَصَرِيِّ.
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے منذر بن عائذ اشج عبدالقیس سے فرمایا : تمہارے اندر دو خصلتیں (خوبیاں) ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں : بردباری اور غور و فکر کی عادت ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں اشج عصری سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الزہد ١٨ (٤١٨٨) (تحفة الأشراف : ٦٥٣١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : معلوم ہوا کہ انسان کو کوئی بھی کام سوچ سمجھ کرنا چاہیئے ، جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیئے اور آدمی کو بردباری اور حلیم و صابر ہونا چاہیئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (4188) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2011