حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) قَالَ: عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ، فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ، وَالسَّامُ: الْمَوْتُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ بُرَيْدَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَعَائِشَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ: هِيَ الشُّونِيزُ.
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ اس کالے دانہ (کلونجی) کو لازمی استعمال کرو اس لیے کہ اس میں «سام» کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء موجود ہے، «سام» موت کو کہتے ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں بریدہ، ابن عمر اور عائشہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - «الحبة السوداء» ،«شونيز» (کلونجی) کو کہتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطب ٧ (٥٦٨٨) ، صحیح مسلم/السلام ٢٩ (٢٢١٥) ، سنن ابن ماجہ/الطب ٦ (٣٤٤٧) (تحفة الأشراف : ١٥١٤٨) ، و مسند احمد (٢/٢٤١، ٢٦١، ٢٦٨، ٣٤٣، ٣٨٩، ٤٢٣، ٤٦٨، ٤٨٤، ٥٠٤، ٥١٠، ٥٣٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3447) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2041