حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) كَوَى أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ مِنَ الشَّوْكَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أُبَيٍّ، وَجَابِرٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اسعد بن زرارہ کے بدن کو سرخ پھنسی کی بیماری میں داغا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابی اور جابر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٥٤٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ علاج کے طور پر بدن کو داغنا جائز ہے لیکن بلا ضرورت محض بیماری کے اندیشہ سے ایسا کرنا مکروہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (5434 / التحقيق الثانی) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2050