حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ: لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِالشَّعْبِيِّ، عَنْ بُرَيْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، بِمِثْلِهِ.
عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جھاڑ پھونک صرف نظر بد اور پسلی میں نکلنے والے دانے کی وجہ سے ہی جائز ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : شعبہ نے یہ حدیث «عن حصين عن الشعبي عن بريدة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطب ١٧ (٣٨٨٤) ، وأخرجہ البخاري في الطب ١٧ (٥٧٠٥) موقوفا علی عمران بن حصین رضي اللہ عنہ (تحفة الأشراف : ١٠٨٣٠) ، وانظر مسند احمد (٤/٤٣٦، ٤٣٨، ٤٤٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ ان دونوں کے علاوہ کسی اور بیماری میں جھاڑ پھونک جائز نہیں ہے ، کیونکہ ان کے علاوہ میں جھاڑ پھونک احادیث سے ثابت ہے ، اس لیے اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ان دونوں میں جھاڑ بھونک زیادہ مفید اور کار آمد ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (4557) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2057