حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابومسعود انصاری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت، زانیہ عورت کی کمائی اور کاہن کے نذرانے لینے سے منع فرمایا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ١١٣٣، ١٢٧٦ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : غیب کا علم صرف رب العالمین کے لیے خاص ہے ، اس کا دعویٰ کرنا بہت بڑا گناہ ہے ، اسی لیے اس دعویٰ کی آڑ میں کاہن اور نجومی باطل اور غلط طریقے سے جو مال لوگوں سے حاصل کرتے ہیں ، وہ حرام ہے ، زنا معصیت اور فحش کے اعمال میں سے سب سے بدترین عمل ہے ، اس لیے اس سے حاصل ہونے والی اجرت ناپاک اور حرام ہے ، کتا ایک نجس جانور ہے اس کی نجاست کا حال یہ ہے کہ جس برتن میں یہ منہ ڈال دے شریعت نے اسے سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا ہے ، اسی لیے کتے کی خرید و فروخت اور اس سے فائدہ اٹھانا منع ہے ، سوائے اس کے کہ گھر ، جائیداد اور جانوروں کی حفاظت کے لیے ہو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2159) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2071