حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُذْرِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي رَزِينٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، قَال: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) أَنْ نَتَدَاوَى مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ بِالْقُسْطِ الْبَحْرِيِّ وَالزَّيْتِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مَيْمُونٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَقَدْ رَوَى عَنْ مَيْمُونٍ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ، وَذَاتُ الْجَنْبِ يَعْنِي السِّلَّ.
زید بن ارقم (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ذات الجنب کا علاج قسط بحری (عود ہندی) اور زیتون کے تیل سے کریں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ٢ - ہم اسے صرف میمون کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ زید بن ارقم سے روایت کرتے ہیں، ٣ - میمون سے کئی لوگوں نے یہ حدیث روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (ضعیف ) قال الشيخ الألباني : ضعيف انظر ما قبله (2078) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2079