حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْأَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) سَأَلَهَا: بِمَ تَسْتَمْشِينَ ؟ قَالَتْ: بِالشُّبْرُمِ، قَالَ: حَارٌّ جَارٌّ قَالَتْ: ثُمَّ اسْتَمْشَيْتُ بِالسَّنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): لَوْ أَنَّ شَيْئًا كَانَ فِيهِ شِفَاءٌ مِنَ الْمَوْتِ لَكَانَ فِي السَّنَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، يَعْنِي: دَوَاءَ الْمَشِيِّ.
اسماء بنت عمیس (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ اسہال کے لیے تم کیا لیتی ہو ؟ میں نے کہا : «شبرم» ١ ؎، آپ نے فرمایا : وہ گرم اور بہانے والا ہے ۔ اسماء کہتی ہیں : پھر میں نے «سنا» ٢ ؎ کا مسہل لیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر کسی چیز میں موت سے شفاء ہوتی تو «سنا» میں ہوتی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس سے (یعنی «سنا» سے) مراد دست آور دواء ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطب ١٢ (٣٤٦١) (تحفة الأشراف : ١٥٧٥٩) (ضعیف) (اس کی سند میں سخت اضطراب ہے ” زرعة بن عبداللہ، زرعة بن عبدالرحمن “ ، ” عتبة بن عبداللہ، عبید اللہ “ بہر حال یہ آدمی مجہول ہے ) وضاحت : ١ ؎ : گرم اور سخت قسم کا چنے کے برابر ایک طرح کا دانہ ہوتا ہے۔ ٢ ؎ : ایک دست لانے والی دوا کا نام ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (4537) // هذا وهم في أصل الشيخ ناصر . وإنما هو رقم مشکاة المصابيح والشيخ ناصر لم يحل علی المشکاة . وأما رقم ضعيف سنن ابن ماجة فهو (760 - 3461) ومن منا لا يسهو - وانظر ضعيف الجامع الصغير (4807) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2081