حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سُئِلَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، وَأَنَا أَسْمَعُ، بِأَيِّ شَيْءٍ دُووِيَ جُرْحُ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) ؟ فَقَالَ: مَا بَقِيَ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، كَانَ عَلِيٌّ يَأْتِي بِالْمَاءِ فِي تُرْسِهِ، وَفَاطِمَةُ تَغْسِلُ عَنْهُ الدَّمَ، وَأُحْرِقَ لَهُ حَصِيرٌ، فَحَشَا بِهِ جُرْحُهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوحازم کہتے ہیں کہ سہل بن سعد (رض) سے پوچھا گیا اور میں سن رہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے زخم کا کس چیز سے علاج کیا گیا ؟ انہوں نے کہا : اس چیز کو مجھ سے زیادہ جاننے والا اب کوئی باقی نہیں ہے، علی (رض) اپنی ڈھال میں پانی لا رہے تھے، جب کہ فاطمہ (رض) آپ کے زخم سے خون دھو رہی تھیں اور میں آپ کے لیے ٹاٹ جلا رہا تھا، پھر اسی کی راکھ سے آپ کا زخم بھرا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٧٢ (٢٤٣) ، والجھاد ٨٠ (٢٩٠٣) ، و ٨٥ (٢٩١١) ، و ١٦٣ (٣٠٣٧) ، والمغازي ٢٤ (٤٠٧٥) ، والنکاح ١٢٢ (٥٢٤٨) ، والطب ٢٧ (٥٧٢٢) ، صحیح مسلم/الجھاد ٣٧ (١٧٩٠) ، سنن ابن ماجہ/الطب ١٥ (٣٤٦٤) (تحفة الأشراف : ٤٦٨٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2085