حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَ: إِنَّ ابْنِي مَاتَ فَمَا لِي فِي مِيرَاثِهِ، قَالَ: لَكَ السُّدُسُ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ، فَقَالَ: لَكَ سُدُسٌ آخَرُ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ، قَالَ: إِنَّ السُّدُسَ الْآخَرَ طُعْمَةٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ.
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی نے آ کر عرض کیا : میرا پوتا مرگیا ہے، مجھے اس کی میراث میں سے کتنا حصہ ملے گا ؟ آپ نے فرمایا : تمہیں چھٹا حصہ ملے گا، جب وہ مڑ کر جانے لگا تو آپ نے اسے بلا کر کہا : تمہیں ایک اور چھٹا حصہ ملے گا ، پھر جب وہ مڑ کر جانے لگا تو آپ نے اسے بلایا کر فرمایا : دوسرا چھٹا حصہ بطور خوراک ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں معقل بن یسار (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الفرائض ٦ (٢٨٩٦) (تحفة الأشراف : ١٠٨٠١) (ضعیف) (سند میں قتادة اور حسن بصری دونوں مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز حسن بصری کے عمران بن حصین (رض) سے سماع میں بھی سخت اختلاف ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، ضعيف أبي داود (500) // (619 / 2896) ، المشکاة (3060) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2099