حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَبِيبٍ، وَعَلِيّ بْنِ نِزَارٍ، عَنْ نِزَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَيْسَ لَهُمَا فِي الْإِسْلَامِ نَصِيبٌ: الْمُرْجِئَةُ، وَالْقَدَرِيَّةُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت کے دو قسم کے لوگوں کے لیے اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے : ( ١ ) مرجئہ ( ٢ ) قدریہ ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں عمر، ابن عمر اور رافع بن خدیج (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المدقدمة ٩ (٧٣) (تحفة الأشراف : ٦٢٢٢) (ضعیف) (سند میں ” نزار بن حیان اسدی “ ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : مرجئہ : باطل اور گمراہ فرقوں میں سے ایک فرقہ ہے جو یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ بندہ کو اپنے افعال کے سلسلہ میں کچھ بھی اختیار حاصل نہیں ، جمادات کی طرح وہ مجبور محض ہے ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جس طرح کفر کے ساتھ اطاعت و فرمانبرداری کچھ بھی مفید نہیں اسی طرح ایمان کے ساتھ معصیت ذرہ برابر نقصان دہ نہیں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (105) ، الظلال (334 و 335) // يعني کتاب السنة لابن أبي عاصم طبع المکتب الإسلامي، وضعيف الجامع الصغير (3498) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2149