حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُصْعَبٍ أَبُو يَزِيدَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) قَالَ: إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْجِهَادِ كَلِمَةَ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ظالم بادشاہ کے سامنے حق کہنا سب سے بہتر جہاد ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوامامہ سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الملاحم ١٧ (٤٣٤٤) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٠ (٤٠١١) ، و مسند احمد ٣٠/١٩، ٦١) (تحفة الأشراف : ٤٢٣٤) (صحیح) (متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” عطیہ عوفي “ ضعیف ہیں ۔ دیکھیے : الصحیحة : ٤٩١ ) وضاحت : ١ ؎ : یہ سب سے بہتر جہاد اس وجہ سے ہے کہ دشمن سے مقابلہ کے وقت جو ڈر سوار رہتا ہے ، وہ اپنے اندر جیتنے اور ہارنے سے متعلق دونوں صفتوں کو سمیٹے ہوئے ہے ، جب کہ کسی جابر بادشاہ کے سامنے حق بات کہنے میں صرف مغلوبیت کا خوف طاری رہتا ہے ، اسی لیے اسے سب سے بہتر جہاد کہا گیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (4010) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2174