حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) اسْتَيْقَظَ لَيْلَةً، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، مَاذَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْفِتْنَةِ ؟ مَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْخَزَائِنِ ؟ مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ ؟ يَا رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٌ فِي الْآخِرَةِ ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک رات بیدار ہوئے اور فرمایا : سبحان اللہ ! آج کی رات کتنے فتنے اور کتنے خزانے نازل ہوئے ! حجرہ والیوں (امہات المؤمنین) کو کوئی جگانے والا ہے ؟ سنو ! دنیا میں کپڑا پہننے والی بہت سی عورتیں آخرت میں ننگی ہوں گی ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٤٠ (١١٥) ، والتھجد ٥ (١١٢٦) ، والمناقب ٢٥ (٣٥٩٩) ، واللباس ٣١ (٥٨٤٤) ، والأدب ١٢١ (٦٢١٨) ، والفتن ٦ (٧٠٦٩) (تحفة الأشراف : ١٨٢٩٠) ، و مسند احمد (٦/٢٩٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس سے مراد وہ عورتیں ہیں جو بےانتہا باریک لباس پہنتی ہیں ، یا وہ عورتیں مراد ہیں جن کے لباس مال حرام سے بنتے ہیں ، یا وہ عورتیں ہیں جو بطور زینت بہت سے کپڑے استعمال کرتی ہیں ، لیکن عریانیت سے اپنے آپ کو محفوظ نہیں رکھتیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2196