حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنِعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ: فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَسْفٌ وَمَسْخٌ وَقَذْفٌ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَتَى ذَاكَ ؟ قَالَ: إِذَا ظَهَرَتِ الْقَيْنَاتُ وَالْمَعَازِفُ وَشُرِبَتِ الْخُمُورُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) مُرْسَلا، وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس امت میں «خسف» ، «مسخ» اور «قذف» واقع ہوگا ١ ؎، ایک مسلمان نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ایسا کب ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : جب ناچنے والیاں اور باجے عام ہوجائیں گے اور شراب خوب پی جائے گی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث «عن الأعمش عن عبدالرحمٰن بن سابط عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مرسلاً مروی ہے، ٢ - یہ حدیث غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٠٨٦٤) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : «خسف» : زمین کا دھنسنا ، «مسخ» : صورتوں کا تبدیل ہونا ، «قذف» : پتھروں کی بارش ہونا۔ اتنی دوری ہے جتنی دوری شہادت اور بیچ والی انگلی کے درمیان ہے ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1604) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2212