حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): سَتَخْرُجُ نَارٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ، أَوْ مِنْ نَحْوِ بَحْرِ حَضْرَمَوْتَ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ تَحْشُرُ النَّاسَ ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ: عَلَيْكُمْ بِالشَّامِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت سے پہلے حضر موت یا حضر موت کے سمندر کی طرف سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو اکٹھا کرے گی ، صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس وقت آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں، آپ نے فرمایا : تم شام چلے جانا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث ابن عمر (رض) کی روایت سے حسن غریب صحیح ہے، ٢ - اس باب میں حذیفہ بن اسید، انس، ابوہریرہ اور ابوذر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٦٧٦٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح فضائل الشام (11) ، المشکاة (6265) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2217