حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مِهْرَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ كُسَيْبٍ الْعَدَوِيِّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي بَكْرَةَ تَحْتَ مِنْبَرِ ابْنِ عَامِرٍ، وَهُوَ يَخْطُبُ وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ رِقَاقٌ، فَقَالَ أَبُو بِلَالٍ: انْظُرُوا إِلَى أَمِيرِنَا يَلْبَسُ ثِيَابَ الْفُسَّاقِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ: اسْكُتْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَقُولُ: مَنْ أَهَانَ سُلْطَانَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ أَهَانَهُ اللَّهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
زیاد بن کسیب عدوی کہتے ہیں کہ میں ابوبکرہ (رض) کے ساتھ ابن عامر کے منبر کے نیچے تھا، اور وہ خطبہ دے رہے تھے، ان کے بدن پر باریک کپڑا تھا، ابوبلال نے کہا : ہمارے امیر کو دیکھو فاسقوں کا لباس پہن رکھا ہے، ابوبکرہ (رض) نے کہا : خاموش رہو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : جو شخص زمین پر اللہ کے بنائے ہوئے سلطان (حاکم) کو ذلیل کرے تو اللہ اسے ذلیل کرے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١١٦٧٤) (حسن) (سند میں ” زیاد بن کسیب “ لین الحدیث (مقبول) ہیں، لیکن باب میں ابو بکرہ کی حدیث کے شاہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، تفصیل دیکھیے : الصحیحة رقم : ٢٢٩٧، تراجع الالبانی ٢٢٣ ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (2296) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2224