حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) قَالَ: انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَصَرْتُهُ مَظْلُومًا، فَكَيْفَ أَنْصُرُهُ ظَالِمًا ؟ قَالَ: تَكُفُّهُ عَنِ الظُّلْمِ فَذَاكَ نَصْرُكَ إِيَّاهُ ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ، صحابہ نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے مظلوم ہونے کی صورت میں تو اس کی مدد کی لیکن ظالم ہونے کی صورت میں اس کی مدد کیسے کروں ؟ آپ نے فرمایا : اسے ظلم سے باز رکھو، اس کے لیے یہی تمہاری مدد ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عائشہ (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المظالم ٤ (٢٤٤٣، ٢٤٤٤) ، والإکراہ ٧ (٦٩٥٢) ، (تحفة الأشراف : ٧٥١) ، و مسند احمد (٣/٩٩، ٢٠١، ٢٢٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (2449) ، الروض النضير (32) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2255