حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: عَصَمَنِي اللَّهُ بِشَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، لَمَّا هَلَكَ كِسْرَى قَالَ: مَنِ اسْتَخْلَفُوا ؟ قَالُوا: ابْنَتَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَتْ عَائِشَةُ، يَعْنِي الْبَصْرَةَ، ذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فَعَصَمَنِي اللَّهُ بِهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوبکرہ (رض) کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک چیز سے بچا لیا جسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سن رکھا تھا، جب کسریٰ ہلاک ہوگیا تو آپ نے پوچھا : ان لوگوں نے کسے خلیفہ بنایا ہے ؟ صحابہ نے کہا : اس کی لڑکی کو، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتی جس نے عورت کو اپنا حاکم بنایا ، جب عائشہ (رض) آئیں یعنی بصرہ کی طرف تو اس وقت میں نے رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث یاد کی ١ ؎، چناچہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے بچا لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٨٢ (٤٤٢٥) ، والتفن ١٨ (٧٠٩٩) ، سنن النسائی/آداب القضاة ٨ (٥٣٩٠) (تحفة الأشراف : ١١٦٦٠) ، و مسند احمد (٥/٣٨، ٣٧٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس سے اشارہ جنگ جمل کی طرف ہے جو قاتلین عثمان سے بدلہ لینے کی خاطر پیش آئی تھی ، عثمان (رض) جب شہید کردیے گئے اور علی (رض) کے ہاتھ پر لوگوں نے بیعت کرلی ، پھر طلحہ اور زبیر (رض) مکہ کی طرف روانہ ہوئے وہاں ان کی ملاقات عائشہ (رض) سے ہوئی جو حج کے ارادے سے گئی تھیں ، پھر ان سب کی رائے متفق ہوگئی کہ عثمان (رض) کے خون کا بدلہ لینے کے لیے لوگوں کو آمادہ کرنے کی غرض سے بصرہ چلیں ، علی (رض) کو جب یہ خبر پہنچی تو وہ بھی پوری تیاری کے ساتھ پہنچے ، پھر حادثہ جمل پیش آیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (2456) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2262