حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زيَادٍ، حَدَّثَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ، فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ ، قَالَ: فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: لَكِنْ الْمُبَشِّرَاتُ ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ ؟ قَالَ: رُؤْيَا الْمُسْلِمِ، وَهِيَ جُزْءٌ مِنْ أَجْزَاءِ النُّبُوَّةِ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأُمِّ كُرْزٍ، وَأَبِي أَسِيدٍ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے، لہٰذا میرے بعد کوئی رسول اور کوئی نبی نہ ہوگا ، انس کہتے ہیں : یہ بات لوگوں پر گراں گزری تو آپ نے فرمایا : البتہ بشارتیں باقی ہیں ، صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! بشارتیں کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا : مسلمان کا خواب اور یہ نبوت کا ایک حصہ ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث اس سند سے یعنی مختار بن فلفل کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، حذیفہ بن اسید، ابن عباس، ام کرز اور ابواسید (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، وانظر صحیح البخاری/التعبیر ٢ (٦٩٨٣) ، (تحفة الأشراف : ١٥٨٢) ، وط/الرؤیا ١ (١) ، و مسند احمد (٣/٦٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : نبی اکرم ﷺ کی بعثت اس امت کے لیے سب سے عظیم بشارت تھی ، اللہ رب العالمین نے نبی اکرم ﷺ کو مبعوث فرما کر جو احسان اس امت پر کیا ہے ایسا احسان کسی دوسری امت پر نہیں کیا ، اسے اسلام جیسی نعمت سے سرفراز کیا ، رب العالمین اپنے اس احسان کا ذکر کچھ اس طرح فرما رہا ہے «لقد من اللہ علی المؤمنين إذ بعث فيهم رسولا من أنفسهم» (آل عمران : ١٦٤ ) ، آپ کی ذات گرامی اس امت کے لیے سراپا بشارت ہی بشارت تھی ، دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد آپ کے فرمان کے مطابق بشارتوں میں سے اچھے خواب کے علاوہ کوئی دوسری چیز باتی نہ رہ گئی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2272