حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، وَعِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: نُبِّئْتُ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) عَنْ قَوْلِهِ: لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا سورة يونس آية 64، قَالَ: هِيَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُؤْمِنُ أَوْ تُرَى لَهُ ، قَالَ حَرْبٌ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
عبادہ بن صامت (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے آیت کریمہ : «لهم البشری في الحياة الدنيا» کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : اس سے مراد اچھے اور نیک خواب ہیں جسے مومن دیکھتا ہے یا اسے دکھایا جاتا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - حرب نے اپنی حدیث میں یحییٰ بن ابی کثیر سے «عنعنہ» کے بجائے صیغہ تحدیث «حدثني» کے صیغے کے ساتھ روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الرؤیا ١ (٣٨٩٨) (تحفة الأشراف : ٥١٢٣) (صحیح) (ابن ماجہ کی سند متصل ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1786) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2275