حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ) قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ: مَنْ رَأَى مِنْكُمْ رُؤْيَا ؟ فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ، فَرَجَحْتَ أَنْتَ بِأَبِي بَكْرٍ، وَوُزِنَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ، وَوُزِنَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ، فَرَجَحَ عُمَرُ، ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ فَرَأَيْنَا الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوبکرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک دن فرمایا : تم میں سے کس نے خواب دیکھا ہے ؟ ایک آدمی نے کہا : میں نے دیکھا کہ آسمان سے ایک ترازو اترا، آپ اور ابوبکر تولے گئے تو آپ ابوبکر سے بھاری نکلے، ابوبکر اور عمر تولے گئے، تو ابوبکر بھاری نکلے، عمر اور عثمان تولے گئے تو عمر بھاری نکلے پھر ترازو اٹھا لیا گیا، ابوبکرہ (رض) کہتے ہیں : ہم نے رسول اللہ ﷺ کے چہرے پر ناگواری کے آثار دیکھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ السنة ٩ (٤٦٣٤) (تحفة الأشراف : ١١٦٦٢) ، و مسند احمد (٥/٤٤، ٥٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ناگواری کا سبب یہ تھا کہ میزان کے اٹھا لیے جانے کا مفہوم یہ نکلا کہ عمر (رض) کے بعد فتنوں کا آغاز ہوجائے گا ، «واللہ اعلم»۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (6057 / التحقيق الثانی) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2287