حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَاسْمُ أَبِي عَوَانَةَ وَضَّاحٌ، . قَالَ أَبُو عِيسَى: سَأَلْتُ قُتَيْبَةَ قُلْتُ: أَبُو عَوَانَةَ مَا اسْمُهُ ؟ قَالَ وَضَّاحٌ: قُلْتُ ابْنُ مَنْ ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي كَانَ عَبْدًا لِامْرَأَةٍ بِالْبَصْرَةِ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ ہلکی اور سب زیادہ مکمل نماز پڑھنے والے تھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ٣٧ (٤٦٩) ، سنن النسائی/الإمامة ٣٥ (٨٢٥) ، ( تحفة الأشراف : ١٤٣٢) ، مسند احمد (٣/١٧٠، ١٧٣، ١٧٩، ٢٣١، ٢٣٤، ٢٧٦) ، سنن الدارمی/الصلاة ٤٦ (١٢٩٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : سب سے ہلکی نماز ہوتی تھی سے مراد یہ ہے کہ آپ لمبی قرأت نہیں کرتے تھے ، اسی طرح لمبی دعاؤں سے بھی بچتے تھے ، اور سب سے زیادہ مکمل نماز کا مطلب یہ ہے کہ آپ نماز کے جملہ ارکان و سنن اور مستحبات کو بحسن خوبی اطمینان سے ادا کرتے تھے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 237