حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں جیسا وہ گمان مجھ سے رکھے، اور میں اس کے ساتھ ہوں جب بھی وہ مجھے پکارتا ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الدعاء والذکر ٦ (٢٦٧٥) (تحفة الأشراف : ١٤٨٢١) (وراجع أیضا : صحیح البخاری/التوحید ١٥ (٧٤٠٥) ، و ٣٥ (٥٥٣٧) ، وصحیح مسلم/التوبة ١ (٢٦٧٥) ، وماعند المؤلف في الدعوات برقم ٣٦٠٣) ، وسنن ابن ماجہ/الأدب ٥٨ (٣٨٢٢) ، و مسند احمد (٢/٢٥١) ، ٣٩١، ٤١٣، ٤٤٥، ٤٨٠، ٤٨٢، ٥١٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث میں اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھنے کی ترغیب ہے ، لیکن عمل کے بغیر کسی بھی چیز کی امید نہیں کی جاسکتی ہے ، گویا اللہ کا معاملہ بندوں کے ساتھ ان کے عمل کے مطابق ہوگا ، بندے کا عمل اگر اچھا ہے تو اس کے ساتھ اچھا معاملہ اور برے عمل کی صورت میں اس کے ساتھ برا معاملہ ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2388