حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَسْلَمَ الْعِجْلِيِّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ) قَالَ: مَا الصُّورُ ؟ قَالَ: قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ.
عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آ کر عرض کیا : «صور» کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا : ایک سنکھ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - کئی لوگوں نے سلیمان تیمی سے اس حدیث کی روایت کی ہے، اسے ہم صرف سلیمان تیمی کی روایت سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ السنة ٢٤ (٤٧٤٢) (تحفة الأشراف : ٨٦٠٨) ، و مسند احمد (٢/١٦٢، ١٩٢) ، وسنن الدارمی/الرقاق ٧٩ (٢٨٤٠) ، ویأتي عند المؤلف في تفسیر سورة القیامة (٣٣٣٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1080) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2430