حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ الْأَنْصَارِيُّ أَبُو الْخَطَّابِ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ (ﷺ)، أَنْ يَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَقَالَ: أَنَا فَاعِلٌ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيْنَ أَطْلُبُكَ، قَالَ: اطْلُبْنِي أَوَّلَ مَا تَطْلُبُنِي عَلَى الصِّرَاطِ ، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عَلَى الصِّرَاطِ ؟ قَالَ: فَاطْلُبْنِي عِنْدَ الْمِيزَانِ ، قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عِنْدَ الْمِيزَانِ ؟ قَالَ: فَاطْلُبْنِي عِنْدَ الْحَوْضِ فَإِنِّي لَا أُخْطِئُ هَذِهِ الثَّلَاثَ الْمَوَاطِنَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے درخواست کی کہ آپ قیامت کے دن میرے لیے شفاعت فرمائیں، آپ نے فرمایا : ضرور کروں گا ۔ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں آپ کو کہاں تلاش کروں گا ؟ آپ نے فرمایا : سب سے پہلے مجھے پل صراط پر ڈھونڈنا ، میں نے عرض کیا : اگر پل صراط پر آپ سے ملاقات نہ ہو سکے، تو فرمایا : تو اس کے بعد میزان کے پاس ڈھونڈنا ، میں نے کہا : اگر میزان کے پاس بھی ملاقات نہ ہو سکے تو ؟ فرمایا : اس کے بعد حوض کوثر پر ڈھونڈنا، اس لیے کہ میں ان تین جگہوں میں سے کسی جگہ پر ضرور ملوں گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٦٢٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (5595) ، التعليق الرغيب (4 / 211) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2433