حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: مَا أَعْرِفُ شَيْئًا مِمَّا كُنَّا عَلَيْهِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ (ﷺ)، فَقُلْتُ: أَيْنَ الصَّلَاةُ ؟ قَالَ: أَوَلَمْ تَصْنَعُوا فِي صَلَاتِكُمْ مَا قَدْ عَلِمْتُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، مِنْ حَدِيثِ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں وہ چیزیں نہیں دیکھتا جن پر ہم نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں عمل کرتے تھے، راوی حدیث ابوعمران جونی نے کہا : کیا آپ نماز نہیں دیکھتے ؟ انس (رض) نے کہا : کیا تم لوگوں نے نماز میں وہ سب نہیں کیا جو تم جانتے ہو ؟ ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث ابوعمران جونی کی روایت سے غریب حسن ہے، ٢ - یہ حدیث انس کے واسطے سے اس کے علاوہ اور کئی سندوں سے مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المواقیت ٧ (٥٢٩، ٥٣٠) (تحفة الأشراف : ١٠٧٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی نماز کی پابندی اور اس کے اوقات میں اسے ادا کرنا اس سلسلہ میں تم لوگوں نے سستی اور کاہلی نہیں برتی ؟۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2447