حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ الصَّبَّاحِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): اسْتَحْيُوا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَسْتَحْيِي وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، قَالَ: لَيْسَ ذَاكَ وَلَكِنَّ الِاسْتِحْيَاءَ مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ أَنْ تَحْفَظَ الرَّأْسَ وَمَا وَعَى، وَتَحْفَظَ الْبَطْنَ وَمَا حَوَى، وَتَتَذَكَّرَ الْمَوْتَ وَالْبِلَى، وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ تَرَكَ زِينَةَ الدُّنْيَا، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدِ اسْتَحْيَا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبَانَ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ الصَّبَّاحِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سے شرم و حیاء کرو جیسا کہ اس سے شرم و حیاء کرنے کا حق ہے ١ ؎، ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم اللہ سے شرم و حیاء کرتے ہیں اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، آپ نے فرمایا : حیاء کا یہ حق نہیں جو تم نے سمجھا ہے، اللہ سے شرم و حیاء کرنے کا جو حق ہے وہ یہ ہے کہ تم اپنے سر اور اس کے ساتھ جتنی چیزیں ہیں ان سب کی حفاظت کرو ٢ ؎، اور اپنے پیٹ اور اس کے اندر جو چیزیں ہیں ان کی حفاظت کرو ٣ ؎، اور موت اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے کو یاد کیا کرو، اور جسے آخرت کی چاہت ہو وہ دنیا کی زیب و زینت کو ترک کر دے پس جس نے یہ سب پورا کیا تو حقیقت میں اسی نے اللہ تعالیٰ سے حیاء کی جیسا کہ اس سے حیاء کرنے کا حق ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے۔ ٢ - اس حدیث کو اس سند سے ہم صرف ابان بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، اور انہوں نے صباح بن محمد سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٩٥٥٣) (حسن) (صحیح الترغیب ٣٣٣٧، ١٦٣٨، ١٧٢٥، ١٧٢٤ ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اللہ سے پورا پورا ڈرو ، جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ ٢ ؎ : یعنی اپنا سر غیر اللہ کے سامنے مت جھکانا ، نہ ریاکاری کے ساتھ عبادت کرنا ، اور نہ ہی اپنی زبان ، آنکھ اور کان کا غلط استعمال کرنا۔ ٣ ؎ : یعنی حرام کمائی سے اپنا پیٹ مت بھرو ، اسی طرح شرمگاہ ، ہاتھ ، پاؤں اور دل کی اس طرح حفاظت کرو ، کہ ان سے غلط کام نہ ہونے پائے۔ قال الشيخ الألباني : حسن، الروض النضير (601) ، المشکاة (1608 / التحقيق الثانی) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2458