حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: يَا بُنَيَّ لَوْ رَأَيْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) وَأَصَابَتْنَا السَّمَاءُ لَحَسِبْتَ أَنَّ رِيحَنَا رِيحُ الضَّأْنِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ كَانَ ثِيَابَهُمُ الصُّوفُ فَإِذَا أَصَابَهُمُ الْمَطَرُ يَجِيءُ مِنْ ثِيَابِهِمْ رِيحُ الضَّأْنِ.
ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا : اے میرے بیٹے ! اگر تم ہمیں اس وقت دیکھتے جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اور ہمیں بارش نصیب ہوتی تھی تو تم خیال کرتے کہ ہماری بو بھیڑ کی بو جیسی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ کے کپڑے اون کے ہوتے تھے، جب اس پر بارش کا پانی پڑتا تو اس سے بھیڑ کی جیسی بو آنے لگتی تھی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ اللباس ٦ (٤٠٣٣) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٤ (٣٥٦٢) (تحفة الأشراف : ٩١٢٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس وقت اون کا کپڑا موٹا جھوٹا ہوتا تھا ، جیسا گڈریوں کا ہوتا ہے ، آج کل کا قیمتی اونی کپڑا مراد نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3562) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2479