حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ بِحَدِيثَيْنِ: أَحَدِهِمَا عَنْ نَفْسِهِ، وَالْآخَرِ عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَأَنَّهُ فِي أَصْلِ جَبَلٍ يَخَافُ أَنْ يَقَعَ عَلَيْهِ، وَإِنَّ الْفَاجِرَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَذُبَابٍ وَقَعَ عَلَى أَنْفِهِ ، قَالَ بِهِ هَكَذَا فَطَارَ.
حارث بن سوید کہتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے دو حدیثیں بیان کیں، ایک اپنی طرف سے اور دوسری نبی اکرم ﷺ کی طرف سے (یعنی ایک موقوف اور دوسری مرفوع) عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا : مومن اپنے گناہ کو ایسا دیکھتا ہے گویا وہ پہاڑ کی جڑ میں ہے۔ ڈرتا ہے کہ اس پر وہ گر نہ پڑے ١ ؎، اور فاجر اپنے گناہ کو ایک مکھی کے مانند دیکھتا ہے جو اس کی ناک پر بیٹھی ہوئی ہے، اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور وہ اڑ گئی ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الدعوات ٤ (٦٣٠٨) ، صحیح مسلم/التوبة ١ (٢٧٤٤) (تحفة الأشراف : ٩١٩٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اسے عذاب الٰہی کا پہاڑ اپنے سامنے نظر آتا ہے۔ ٢ ؎ : یعنی ایک فاجر شخص اپنے گناہ کے سلسلہ میں بےخوف ہوتا ہے اور اس کی نگاہ میں اس گناہ کی کوئی اہمیت نہیں ، نہ ہی اسے اس پر کوئی افسوس ہوتا ہے بلکہ اس کی حیثیت اس مکھی کی طرح ہے جو ناک پر بیٹھی ہو اور ہاتھ کے اشارہ سے بھاگ جائے ، اسی طرح اس کے عقل و فہم میں اس گناہ کا کوئی تصور باقی نہیں رہتا یہ ابن مسعود کی موقوف روایت ہے ، (مرفوع کا ذکر آگے ہے) ۔ قال الشيخ الألباني : ** صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2497