حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصِّيَامِ وَالصَّلَاةِ وَالصَّدَقَةِ ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: صَلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ فَإِنَّ فَسَادَ ذَاتِ الْبَيْنِ هِيَ الْحَالِقَةُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَيُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) أَنَّهُ قَالَ: هِيَ الْحَالِقَةُ لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعَرَ وَلَكِنْ تَحْلِقُ الدِّينَ .
ابو الدرداء (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں نہ بتادوں جو درجہ میں صلاۃ، صوم اور صدقہ سے بھی افضل ہے، صحابہ نے عرض کیا : کیوں نہیں ؟ ضرور بتائیے ، آپ نے فرمایا : وہ آپس میں میل جول کرا دینا ہے ١ ؎ اس لیے کہ آپس کی پھوٹ دین کو مونڈنے والی ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح ہے۔ نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : یہی چیز مونڈنے والی ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ سر کا بال مونڈنے والی ہے بلکہ دین کو مونڈ نے والی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأدب ٥٨ (٤٩١٩) (تحفة الأشراف : ١٠٩٨١) ، و مسند احمد (٦/٤٤٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : معلوم ہوا کہ آپس میں میل جول کرا دینا یہ نفلی عبادت سے افضل ہے ، کیونکہ یہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے اور مسلمانوں کے درمیان افتراق و انتشار کے نہ ہونے کا ذریعہ ہے ، جب کہ آپسی رنجش و عداوت دینی بگاڑ کی جڑ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح غاية المرام (414) ، المشکاة (5038 / التحقيق الثانی) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2509