حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نُبَيْهٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: ذُكِرَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ (ﷺ) بِعِبَادَةٍ وَاجْتِهَادٍ وَذُكِرَ عِنْدَهُ آخَرُ بِرِعَةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): لَا تَعْدِلْ بِالرِّعَةِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ هُوَ مِنْ وَلَدِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَهُوَ مَدَنِيٌّ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
جابر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا گیا جو عبادت و ریاضت میں مشہور تھا اور ایک دوسرے شخص کا ذکر کیا گیا جو ورع و پرہیزگاری میں مشہور تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : کوئی بھی عبادت ورع و پرہیزگاری کے برابر نہیں ہوسکتی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٣٠٧٨) (ضعیف) (سند میں محمد بن عبد الرحمن بن نبیہ مجہول راوی ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (4817) // ضعيف الجامع الصغير (6355) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2519