حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): الْمُؤْمِنُ إِذَا اشْتَهَى الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ كَانَ حَمْلُهُ وَوَضْعُهُ وَسِنُّهُ فِي سَاعَةٍ كَمَا يَشْتَهِي ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: فِي الْجَنَّةِ جِمَاعٌ وَلَا يَكُونُ وَلَدٌ، هَكَذَا رُوِيَ عَنْ طَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ: قَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ فِي حَدِيثِ النَّبِيِّ (ﷺ): إِذَا اشْتَهَى الْمُؤْمِنُ الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ كَانَ فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ كَمَا يَشْتَهِي وَلَكِنْ لَا يَشْتَهِي ، قَالَ مُحَمَّدٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) قَالَ: إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَا يَكُونُ لَهُمْ فِيهَا وَلَدٌ ، وَأَبُو الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ اسْمُهُ: بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو وَيُقَالُ: بَكْرُ بْنُ قَيْسٍ أَيْضًا.
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب مومن جنت میں لڑکے کی خواہش کرے گا تو حمل ٹھہرنا، ولادت ہونا اور اس کی عمر بڑھنا یہ سب کچھ اس کی خواہش کے مطابق ایک ساعت میں ہوگا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض لوگ کہتے ہیں : جنت میں جماع تو ہوگا مگر بچہ نہیں پیدا ہوگا۔ طاؤس، مجاہد اور ابراہیم نخعی سے اسی طرح مروی ہے، ٣ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نبی اکرم ﷺ کی اس حدیث کے بارے میں کہتے ہیں : جب جنت میں مومن بچے کی خواہش کرے گا تو یہ ایک ساعت میں ہوجائے گا، جیسے ہی وہ خواہش کرے گا لیکن وہ ایسی خواہش نہیں کرے گا، ٤ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : ابورزین عقیلی (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جنتی کے لیے جنت میں کوئی بچہ نہیں ہوگا، ٥ - ابوصدیق ناجی کا نام بکر بن عمرو ہے، انہیں بکر بن قیس بھی کہا جاتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٩ (٤٣٣٨) (تحفة الأشراف : ٣٩٧٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح ظلال الجنة (528) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2563