حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، المعنى واحد، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) مَرَّ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّ النَّبِيَّ (ﷺ) سَمِعَ رَجُلًا يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي بَكْرَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ.
عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک شخص کے پاس سے گزرے وہ اپنے بھائی کو حیاء (شرم اور پاکدامنی) اختیار کرنے پر نصیحت کر رہا تھا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے (بطور تاکید) فرمایا : حیاء ایمان کا ایک حصہ ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - احمد بن منیع نے اپنی روایت میں کہا : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو حیاء کے بارے میں اپنے بھائی کو پھٹکارتے ہوئے سنا، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ، ابوبکرہ اور ابوامامہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإیمان ١٦ (٢٤) ، والأدب ٧٧ (٦١١٨) ، صحیح مسلم/الإیمان ١٢ (٣٦) ، سنن ابی داود/ الأدب ٧ (٤٧٩٥) ، سنن النسائی/الإیمان ٢٧ (٥٠٣٦) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٩ (٥٨) (تحفة الأشراف : ٦٨٢٨) ، وط/حسن الخلق ٢ (١٠) ، و مسند احمد (٢/٥٦، ١٤٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے حیاء کی فضیلت و اہمیت ثابت ہے ، ایک باحیاء انسان اپنی زندگی میں حیاء سے پورا پورا فائدہ اٹھاتا ہے ، کیونکہ حیاء انسان کو گناہوں سے روکتی اور نیکیوں پر آمادہ کرتی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (58) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2615