حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، عَنْ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِذَا وَعَدَ الرَّجُلُ وَيَنْوِي أَنْ يَفِيَ بِهِ فَلَمْ يَفِ بِهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ، عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ثِقَةٌ، وَلَا يُعْرَفُ أَبُو النُّعْمَانِ وَلَا أَبُو وَقَّاصٍ وَهُمَا مَجْهُولَانِ.
زید بن ارقم (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب آدمی کسی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے گا لیکن وہ (کسی عذر و مجبوری سے) پورا نہ کرسکا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اس کی اسناد قوی نہیں ہے، ٣ - علی بن عبدالاعلی ثقہ ہیں، ابونعمان اور ابو وقاص غیر معروف ہیں اور دونوں ہی مجہول راوی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأدب ٩٠ (٤٩٩٥) (تحفة الأشراف : ٣٦٩٣) (ضعیف) (مولف نے وجہ بیان کر سنن الدارمی/ ہے ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ایسا شخص منافقین کے زمرہ میں نہ آئے گا ، کیونکہ اس کی نیت صالح تھی اور عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (4881) ، الضعيفة (1447) // ضعيف الجامع الصغير (723) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2633