حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّ رَهْطًا مِنَ الْيَهُودِ دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ (ﷺ) فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): عَلَيْكُمْ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ: أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا ؟ قَالَ: قَدْ قُلْتُ: عَلَيْكُمْ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ کچھ یہودیوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا : «السّام عليك» تم پر موت و ہلاکت آئے ، نبی اکرم ﷺ نے جواب میں فرمایا : «عليكم» ١ ؎، عائشہ نے (اس پر دو لفظ بڑھا کر) کہا «بل عليكم السام واللعنة» بلکہ تم پر ہلاکت اور لعنت ہو ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عائشہ ! اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں رفق، نرم روی اور ملائمیت کو پسند کرتا ہے ، عائشہ (رض) نے کہا : کیا آپ نے سنا نہیں ؟ انہوں نے کیا کہا ہے ؟۔ آپ نے فرمایا : تبھی تو میں نے «عليكم» کہا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابو بصرہ غفاری، ابن عمر، انس اور ابوعبدالرحمٰن جہنی سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الستتابة المرتدین ٤ (٦٩٢٧) ، صحیح مسلم/السلام ٤ (٢١٦٥) (تحفة الأشراف : ١٦٤٣٧) ، و مسند احمد (٦/١٩٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : گویا آپ نے «عليكم» کہہ کر یہود کی بد دعا خود انہیں پر لوٹا دی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الروض النضير (764) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2701