حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) قَالَ: يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ وَزَادَ ابْنُ الْمُثَنَّى فِي حَدِيثِهِ وَيُسَلِّمُ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ ، وفي الباب عن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ، وَفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَجَابِرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وقَالَ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ: إِنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سوار پیدل چلنے والے کو اور پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو، اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو (یعنی چھوٹی جماعت بڑی جماعت کو سلام کرے ۔ اور ابن مثنی نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے : چھوٹا اپنے بڑے کو سلام کرے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث ابوہریرہ (رض) سے متعدد سندوں سے مروی ہے، ٢ - ایوب سختیانی، یونس بن عبید اور علی بن یزید کہتے ہیں کہ حسن بصری نے ابوہریرہ (رض) سے نہیں سنا ہے، ٣ - اس باب میں عبدالرحمٰن بن شبل، فضالہ بن عبید اور جابر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الاستئذان ٤ (٦٢٣١) ، و ٥ (٦٢٣٢) ، و ٦ (٦٢٣٣) ، و ٧ (٦٢٣٤) ، صحیح مسلم/السلام ١ (٩٢١٦٠، سنن ابی داود/ الأدب ١٤٥ (٥١٩٨) ، ٥١٩٩) (تحفة الأشراف : ١٢٢٥١) ، و مسند احمد (٢/٣٢٥، ٥١٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : معلوم ہوا کہ سلام کرنے میں حدیث میں جو طریقہ اور صورت مذکور ہے اس کا اعتبار ہوگا نہ کہ رتبے اور درجے کا ، اگر صورت میں اتفاق ہوگا مثلاً دونوں سوار ہیں یا دونوں پیدل ہیں تو ایسی صورت میں سلام کرتے وقت چھوٹے اور بڑے کا لحاظ ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1145) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2703