حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْمَخْزُومِيُّ الْمَدَنِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): لِلْمُؤْمِنِ عَلَى الْمُؤْمِنِ سِتُّ خِصَالٍ: يَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ، وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ، وَيُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ، وَيَنْصَحُ لَهُ إِذَا غَابَ أَوْ شَهِدَ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْمَخْزُومِيُّ الْمَدَنِيُّ ثِقَةٌ، رَوَى عَنْهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مومن کے مومن پر چھ حقوق ہیں، ( ١ ) جب بیمار ہو تو اس کی بیمار پرسی کرے، ( ٢ ) جب مرے تو اس کے جنازے میں شریک ہو، ( ٣ ) جب دعوت کرے تو قبول کرے، ( ٤ ) جب ملے تو اس سے سلام کرے، ( ٥ ) جب اسے چھینک آئے تو اس کی چھینک کا جواب دے، ( ٦ ) اس کے سامنے موجود رہے یا نہ رہے اس کا خیرخواہ ہو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - محمد بن موسیٰ مخزومی مدنی ثقہ ہیں ان سے عبدالعزیز ابن محمد اور ابن ابی فدیک نے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/السلام ٣ (٢١٦٣) (تحفة الأشراف : ١٣٠٦٦) ، و مسند احمد (٢/٣٢١، ٣٧٢، ٤١٢، ٥٤٠) (صحیح) (و ورد عند صحیح البخاری/ (الجنائز ٢/ح ١٢٤٠) ، وم (السلام ٣/ح ٢١٦٢) بلفظ ” خمس “ ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (832) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2737