حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، وَأَنَا شَاهِدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): يَرْحَمُكَ اللَّهُ ثُمَّ عَطَسَ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): هَذَا رَجُلٌ مَزْكُومٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ میری موجودگی میں رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص کو چھینک آئی تو آپ ﷺ نے فرمایا : «يرحمک الله» (اللہ تم پر رحم فرمائے) پھر اسے دوبارہ چھینک آئی تو آپ نے فرمایا : اسے تو زکام ہوگیا ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الزہد ٩ (٢٩٩٣) ، سنن ابی داود/ الأدب ١٠٠ (٥٠٣٧) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٢٠ (١٧١٤) (تحفة الأشراف : ٤٥١٣) ، وسنن الدارمی/الاستئذان ٣٢ (٢٧٠٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس سے معلوم ہوا کہ ایک یا دو سے زیادہ بار چھینک آنے پر جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3714) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2743