حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ) كَانَ إِذَا عَطَسَ غَطَّى وَجْهَهُ بِيَدِهِ أَوْ بِثَوْبِهِ وَغَضَّ بِهَا صَوْتَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو جب چھینک آتی تھی تو اپنے ہاتھ سے یا اپنے کپڑے سے منہ ڈھانپ لیتے، اور اپنی آواز کو دھیمی کرتے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأدب ٩٨ (٥٠٢٩) (تحفة الأشراف : ١٢٥٨١) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چھینک آتے وقت دوسروں کا خیال رکھا جائے ، ایسا نہ ہو کہ ناک سے نکلے ہوئے ذرات دوسروں پر پڑیں ، اس لیے ہاتھ یا کپڑے منہ پر رکھ لینا چاہیئے ، اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام نے تہذیب و شائستگی کے ساتھ ساتھ نظافت پر بھی زور دیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، الروض النضير (1109) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2745