حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ الْكُوفِيُّ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ (ﷺ) مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ عَلَى يَسَارِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ (ﷺ) مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ عَلَى يَسَارِهِ.
جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی بائیں جانب تکیہ پر ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس حدیث کو کئی اور نے بطریق : «إسرائيل عن سماک عن جابر بن سمرة» روایت کی ہے، (اس میں ہے) وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا، لیکن انہوں نے «علی یسارہ» اپنی بائیں جانب تکیہ رکھنے کا ذکر نہیں کیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ اللباس ٤٥ (٤١٤٣) (تحفة الأشراف : ٢١٣٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح مختصر الشمائل (104) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2770