حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) عَنْ نَظْرَةِ الْفُجَاءَةِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرٍو اسْمُهُ هَرِمٌ.
جریر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے (کسی اجنبیہ عورت پر) اچانک پڑجانے والی نظر سے متعلق پوچھا۔ تو آپ نے فرمایا : تم اپنی نگاہ پھیرلیا کرو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأدب ١٠ (٢١٥٩) ، سنن ابی داود/ النکاح ٤٤ (٢١٤٨) (تحفة الأشراف : ٣٢٣٧) ، و مسند احمد (٤/٣٥٨، ٣٦١) ، وسنن الدارمی/الاستئذان ١٥ (٢٦٨٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : معلوم ہوا کہ کسی مقصد و ارادہ کے بغیر اگر اچانک کسی اجنبی عورت پر نگاہ پڑجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، حرج اور گناہ تو اس میں ہے کہ اس پر باربار نگاہ مقصد و ارادہ کے ساتھ ڈالی جائے ، اور یہ کہ اچانک نگاہ کو بھی فوراً پھیرلیا جائے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح حجاب المرأة (35) ، صحيح أبي داود (1864) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2776