حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ أَنَسٌ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ، وَقَالَ أَنَسٌ: إِنَّ النَّبِيَّ (ﷺ) كَانَ لَا يَرُدُّ الطِّيبَ وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ثمامہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ انس (رض) خوشبو (کی چیز) واپس نہیں کرتے تھے، اور انس (رض) کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ خوشبو کو واپس نہ کرتے تھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الہبة ٩ (٢٥٨٢) ، واللباس ٨٠ (٥٩٢٩) ، سنن النسائی/الزینة ٧٤ (٥٢٦٠) (تحفة الأشراف : ٧٤٥٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی آپ ﷺ کے پاس ہدیہ اگر خوشبو جیسی چیز آتی تو آپ اسے بھی واپس نہیں کرتے تھے ، اس لیے سنت نبوی پر عمل کرتے ہوئے ہدیہ کی ہوئی خوشبو کو واپس نہیں کرنا چاہیئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح مختصر الشمائل (186) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2789