حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، وعبد بن حميد، وغير واحد، واللفظ للحسن بن علي، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا طَلْحَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، يَقُولُ: لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةُ تَمَاثِيلَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ابوطلحہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو، اور نہ اس گھر میں داخل ہوتے ہیں جس میں جاندار مجسموں کی تصویر ہو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/بدء الخلق ٧ (٣٢٢٥، ٣٢٢٦) ، و ١٧ (٣٣٢٢) ، سنن ابی داود/ المغازي ١٢ (٤٠٠٢) ، واللباس ٨٨ (٥٩٤٩) ، و ٥٢ (٥٩٥٨) ، صحیح مسلم/اللباس ٢٦ (٢١٠٦) ، سنن ابی داود/ اللباس ٤٨ (٤١٥٣) ، سنن النسائی/الصید والذبائح ١١ (٤٢٨٧) ، والزینة ١١١ (٥٣٤٩) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٤٤ (٣٦٤٩) (تحفة الأشراف : ٣٧٧٩) ، و مسند احمد (٤/٢٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ایسے کتے جو کھیت اور و جائیداد کی نگرانی نیز شکار کے لیے ہوں وہ مستثنیٰ ہیں ، اسی طرح تصویر سے بےجان چیزوں کی تصویریں مستثنیٰ ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3649) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2804