حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ): قَسَمَ أَقْبِيَةً، وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا ، فَقَالَ مَخْرَمَةُ: يَا بُنَيَّ، انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، قَالَ: ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي، فَدَعَوْتُهُ لَهُ، فَخَرَج النَّبِيُّ (ﷺ) وَعَلَيْهِ قِبَاءٌ مِنْهَا، فَقَالَ: خَبَأْتُ لَكَ هَذَا ، قَالَ: فَنَظَر إِلَيْهِ، فَقَال: رَضِيَ مَخْرَمَةُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ.
مسور بن مخرمہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ ق بائیں تقسیم کیں، اور مخرمہ کو (ان میں سے) کچھ نہ دیا۔ مخرمہ (رض) نے کہا : اے میرے بیٹے مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر چلو، تو میں ان کے ساتھ گیا۔ انہوں نے کہا : تم اندر جاؤ اور آپ کو میرے پاس بلا لاؤ، چناچہ میں آپ کو ان کے پاس بلا کر لانے کے لیے چلا گیا، رسول اللہ ﷺ نکل کر تشریف لائے۔ تو آپ کے پاس ان قباؤں میں سے ایک قباء تھی ، آپ نے فرمایا : یہ میں نے تمہارے لیے چھپا رکھی تھی ۔ مسور کہتے ہیں : پھر مخرمہ نے آپ کو دیکھا اور بول اٹھے : مخرمہ اسے پا کر خوش ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابن ابی ملیکہ کا نام عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الھبة ١٩ (٢٥٩٩) ، والشھادات ١١ (٢١٢٧) ، والخمس ١١ (٣١٢٧) ، واللباس ١٢ (٥٨٠٠) ، و ٤٢ (٥٨٦٢) ، والأدب ٨٢ (٦١٣٢) ، صحیح مسلم/الزکاة ٤٤ (١٠٥٨) ، سنن ابی داود/ اللباس ٤ (٤٠٢٨) ، سنن النسائی/الزینة ٩٩ (٥٣٢٦) (تحفة الأشراف : ١١٢٦٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2818