حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ): نَهَى عَنْ نَتْفِ الشَّيْبِ، وَقَالَ: إِنَّهُ نُورُ الْمُسْلِمِ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ قَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، وَغَيْرِ وَاحِدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ.
عمرو بن العاص (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بڑھاپے کے (سفید) بال اکھیڑنے سے منع کیا، اور فرمایا ہے : یہ تو مسلمان کا نور ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - عبدالرحمٰن بن حارث اور کئی دیگر لوگوں سے یہ حدیث عمر بن شعیب کے واسطہ سے مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الأدب ٢٥ (٣٧٢١) (تحفة الأشراف : ٨٧٨٨٣) (حسن صحیح) (الصحیحة ١٢٤٣ ) وضاحت : ١ ؎ : معلوم ہوا کہ داڑھی اور سر میں جو بال سفید ہوچکے ہیں انہیں نہیں اکھاڑنا چاہیئے ، اس لیے کہ یہ انسان کو غرور اور نفسانی شہوات میں مبتلا ہونے سے روکتے ہیں ، کیونکہ ان سے انسان کے اندر تواضع اور انکساری پیدا ہوتی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (4458) ، الصحيحة (1243) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2821