حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ (ﷺ) جَمَعَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ غَيْرَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ .
علی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو سعد بن ابی وقاص کے سوا کسی کے لیے اپنے ماں باپ کو جمع کرتے ہوئے نہیں دیکھا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجھاد ٨٠ (٢٩٠٥) ، والمغازي ١٨ (٤٠٥٨، ٤٠٥٩) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥١ (٢٤١١) ، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٧٧ (١٩٠-١٩٤) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٢٩) ، وانظر رقم ٢٨٣٠ (تحفة الأشراف : ١٠١١٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی «فداک ابی امی» میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ایسا سعد بن ابی وقاص کے سوا کسی کے لیے کہتے ہوئے نہیں سنا ، سعد کے لیے استعمال سے ثابت ہوا کہ اور کسی کے لیے بھی یہ جملہ کہا جاسکتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (130) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2828