حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يَضَعُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ يَقُومُ عَلَيْهِ قَائِمًا، يُفَاخِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، أَوْ قَالَ: يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، وَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ حَسَّانَ بِرُوحِ الْقُدُسِ مَا يُفَاخِرُ أَوْ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) .
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حسان (رض) کے لیے مسجد میں منبر رکھتے تھے جس پر کھڑے ہو کر وہ رسول اللہ ﷺ کے لیے فخریہ اشعار پڑھتے تھے۔ یا وہ اپنی شاعری کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ کا دفاع فرماتے تھے۔ اور رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے : اللہ حسان کی مدد روح القدس (جبرائیل) کے ذریعہ فرماتا ہے جب تک وہ (اپنے اشعار کے ذریعہ) رسول اللہ ﷺ کی جانب سے فخر کرتے یا آپ کا دفاع کرتے ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ اور یہ حدیث ابن ابی الزناد کی روایت سے ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأدب ٩٥ (٥٠١٥) (تحفة الأشراف : ١٦٣٥١، و ١٧٠٢٠) (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن، الصحيحة (1657) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2846