حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ: قِيلَ لَهَا: هَلْ كَانَ النَّبِيُّ (ﷺ) يَتَمَثَّلُ بِشَيْءٍ مِنَ الشِّعْرِ ؟ قَالَتْ: كَانَ يَتَمَثَّلُ بِشِعْرِ ابْنِ رَوَاحَةَ وَيَتَمَثَّلُ وَيَقُولُ: وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِوَفِي الْبَابِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ ان سے پوچھا گیا : کیا رسول اللہ ﷺ کبھی کوئی شعر بطور مثال اور نمونہ پیش کرتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں، رسول اللہ ﷺ ابن رواحہ کا شعر بطور مثال پیش کرتے تھے، آپ کہتے تھے : «ويأتيك بالأخبار من لم تزود» ١ ؎ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٢٨٧ (٩٩٧) (تحفة الأشراف : ١٦١٤٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : پورا شعر اس طرح ہے : «ستبدی لک الأيام ماکنت جاهلا ويأتيك بالأخبار من لم تزود» زمانہ تمہارے سامنے وہ چیزیں ظاہر اور پیش کرے گا جن سے تم ناواقف اور بیخبر ہو گے ، اور تمہارے پاس وہ آدمی خبریں اور اطلاعات لے کر آئے گا جس کو تم نے خرچہ دے کر اس کام کے لیے بھیجا بھی نہ ہوگا ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (2057) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2848