حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ سَهْوَةٌ فِيهَا تَمْرٌ فَكَانَتْ تَجِيءُ الْغُولُ فَتَأْخُذُ مِنْهُ، قَالَ: فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ: فَاذْهَبْ فَإِذَا رَأَيْتَهَا، فَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ أَجِيبِي رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ: فَأَخَذَهَا، فَحَلَفَتْ أَنْ لَا تَعُودَ فَأَرْسَلَهَا، فَجَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فَقَالَ: مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ، قَالَ: حَلَفَتْ أَنْ لَا تَعُودَ، فَقَالَ: كَذَبَتْ وَهِيَ مُعَاوِدَةٌ لِلْكَذِبِ، قَالَ: فَأَخَذَهَا مَرَّةً أُخْرَى فَحَلَفَتْ أَنْ لَا تَعُودَ فَأَرْسَلَهَا، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ) فَقَالَ: مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ ؟ قَالَ: حَلَفَتْ أَنْ لَا تَعُودَ، فَقَالَ: كَذَبَتْ وَهِيَ مُعَاوِدَةٌ لِلْكَذِبِ، فَأَخَذَهَا فَقَالَ: مَا أَنَا بِتَارِكِكِ حَتَّى أَذْهَبَ بِكِ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، فَقَالَتْ: إِنِّي ذَاكِرَةٌ لَكَ شَيْئًا، آيَةَ الْكُرْسِيِّ اقْرَأْهَا فِي بَيْتِكَ فَلَا يَقْرَبُكَ شَيْطَانٌ وَلَا غَيْرُهُ، قَالَ: فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، فَقَالَ: مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ ؟ قَالَ: فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَتْ: قَالَ: صَدَقَتْ، وَهِيَ كَذُوبٌ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ.
ابوایوب انصاری (رض) سے روایت ہے کہ ان کا اپنا ایک احاطہٰ تھا اس میں کھجوریں رکھی ہوئی تھیں۔ جن آتا تھا اور اس میں سے اٹھا لے جاتا تھا، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس بات کی شکایت کی۔ آپ نے فرمایا : جاؤ جب دیکھو کہ وہ آیا ہوا ہے تو کہو : بسم اللہ (اللہ کے نام سے) رسول اللہ ﷺ کی بات مان ، ابوذر (رض) نے اسے پکڑ لیا تو وہ قسمیں کھا کھا کر کہنے لگا کہ مجھے چھوڑ دو ، دوبارہ وہ ایسی حرکت نہیں کرے گا، چناچہ انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا، تمہارے قیدی نے کیا کیا ؟ ! انہوں نے کہا : اس نے قسمیں کھائیں کہ اب وہ دوبارہ ایسی حرکت نہ کرے گا۔ آپ نے فرمایا : اس نے جھوٹ کہا : وہ جھوٹ بولنے کا عادی ہے ، راوی کہتے ہیں : انہوں نے اسے دوبارہ پکڑا، اس نے پھر قسمیں کھائیں کہ اسے چھوڑ دو ، وہ دوبارہ نہ آئے گا تو انہوں نے اسے (دوبارہ) چھوڑ دیا، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے پوچھا : تمہارے قیدی نے کیا کیا ؟ انہوں نے کہا : اس نے قسم کھائی کہ وہ پھر لوٹ کر نہ آئے گا۔ آپ نے فرمایا : اس نے جھوٹ کہا، وہ تو جھوٹ بولنے کا عادی ہے ۔ (پھر جب وہ آیا) تو انہوں نے اسے پکڑ لیا، اور کہا : اب تمہیں نبی اکرم ﷺ کے پاس لے جائے بغیر نہ چھوڑوں گا۔ اس نے کہا : مجھے چھوڑ دو ، میں تمہیں ایک چیز یعنی آیت الکرسی بتارہا ہوں۔ تم اسے اپنے گھر میں پڑھ لیا کرو۔ تمہارے قریب شیطان نہ آئے گا اور نہ ہی کوئی اور آئے گا ، پھر ابوذر (رض) نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا : تمہارے قیدی نے کیا کیا ؟ تو انہوں نے آپ کو وہ سب کچھ بتایا جو اس نے کہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اس نے بات تو صحیح کہی ہے، لیکن وہ ہے پکا جھوٹا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابی بن کعب (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٣٤٧٣) ، وانظر مسند احمد (٥/٤٢٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، التعليق الرغيب (2 / 220) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2880