حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ: هَلْ تَزَوَّجْتَ يَا فُلَانُ ؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا عِنْدِي مَا أَتَزَوَّجُ بِهِ، قَالَ: أَلَيْسَ مَعَكَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: ثُلُثُ الْقُرْآنِ، قَالَ: أَلَيْسَ مَعَكَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: رُبُعُ الْقُرْآنِ، قَالَ: أَلَيْسَ مَعَكَ قُلْ يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: رُبُعُ الْقُرْآنِ، قَالَ: أَلَيْسَ مَعَكَ إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: رُبُعُ الْقُرْآنِ، قَالَ: تَزَوَّجْ تَزَوَّجْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا : اے فلاں ! کیا تم نے شادی کرلی ؟ انہوں نے کہا : نہیں، قسم اللہ کی ! اللہ کے رسول ! نہیں کی ہے، اور نہ ہی میرے پاس ایسا کچھ ہے جس کے ذریعہ میں شادی کرسکوں۔ آپ نے فرمایا : کیا تمہارے پاس سورة «قل هو اللہ أحد» نہیں ہے ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں، میرے پاس ہے۔ آپ نے فرمایا : سورة «قل هو اللہ أحد» ثواب میں ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔ آپ نے فرمایا : کیا تمہارے پاس سورة «إذا جاء نصر اللہ والفتح» نہیں ہے ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں، (ہے) آپ نے فرمایا : یہ ایک چوتھائی قرآن ہے ، آپ نے فرمایا : کیا تمہارے پاس سورة «قل يا أيها الکافرون» نہیں ہے ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں۔ (ہے) آپ نے فرمایا : (یہ) چوتھائی قرآن ہے ۔ آپ نے فرمایا : کیا تمہارے پاس سورة «إذا زلزلت الأرض» نہیں ہے ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں (ہے) آپ نے فرمایا : یہ ایک چوتھائی قرآن ہے ، آپ نے فرمایا : تم شادی کرو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٨٧٠) (ضعیف) (سند میں سلم بن وردان ضعیف راوی ہیں، لیکن قل ھو اللہ سے متعلق فقرہ اوپر (٢٨٩٣) سے تقویت پا کر حسن ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، التعليق الرغيب (2 / 224) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2895