حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) قَرَأَ أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ سورة المائدة آية 45 . حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى بن يزيد: وهذا حديث حسن غريب، قَالَ مُحَمَّدٌ: تَفَرَّدَ ابْنُ الْمُبَارَكِ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، وَهَكَذَا قَرَأَ أَبُو عُبَيْدٍ، وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ سورة المائدة آية 45 اتِّبَاعًا لِهَذَا الْحَدِيثِ.
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے پڑھا : «أن النفس بالنفس والعين بالعين» ١ ؎ «بالعين» ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ابوعلی بن یزید، یونس بن یزید کے بھائی ہیں، ٣ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : اس حدیث کو یونس بن یزید سے روایت کرنے میں ابن مبارک منفرد (تنہا) ہیں، ٤ - اور ابو عبید (قاسم بن سلام) نے اس حدیث کی اتباع میں اس طرح («العين» «بالعين» ) پڑھا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الحروف (٣٩٧٦) (تحفة الأشراف : ١٥٧٢) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابو علی بن یزید مجہول راوی ہے) وضاحت : ١ ؎ : یعنی : «العینُ» کی نون پر پیش کے ساتھ ، جبکہ یہ «النفس» پر عطف ہے جس کا تقاضا ہے کہ نون پر بھی زبر (فتحہ) پڑھا جائے۔ ٢ ؎ : جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ ہے (المائدہ : ٤٥ ) ۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد //، ضعيف أبي داود (854 / 3976) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2929 ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن مبارک نے یونس بن یزید سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (ضعیف الإسناد ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد //، ضعيف أبي داود (854 / 3976) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2929